نئی دہلی،25جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ریلوے وزیر پیوش گوئل نے بلٹ ٹرین منصوبے کے لئے زمین کے حصول میں آ رہے مسائل کو مسترد کرتے ہوئے آج کہا کہ اس کے لئے مثبت بات چیت چل رہی ہے اور حکومت رضامندی کی بنیاد پر زمین دینے والوں کو پانچ گنا زیادہ قیمت تک دینے کے لئے تیار ہے۔
مسٹر گوئل نے لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی (احمد آباد ممبئی بلٹ ٹرین) منصوبے پر کام کرتے ہوئے ایک سال ہی ہوئے ہیں۔ زمین کے حصول کے لئے بات چیت اچھی چل رہی ہے اور ہمیں جلد زمین مل جانے کی توقع ہے۔ ہم رضامندی کی بنیاد پر زمین دینے والوں کو اس کی پانچ گنا قیمت دینے کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے لئے بڑودہ میں انڈین ریلوے نےنیشنل ہائی ا سپیڈ ریل کارپوریشن کو 4.92 ہیکٹر زمین دی ہے۔ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی باندرا کرلا کمپلیکس میں 0.9 ہیکٹر زمین اس اسکیم کو دینےکی منظوری دی ہے۔ اسکیم کو سال 2023 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، لیکن اسےایک سال پہلے پورا کرنے کی حکومت کی کوشش ہے۔
ریلوے وزیر نے کہا کہ حکومت ملک میں ہائی اسپیڈ ٹرینوں کا جال بچھانا چاہتی ہے۔ اس نے منصوبے کے لئے جاپان سے 0.1 فیصد شرح سود پر 50 سال کے لئے قرض لیا ہے جس میں پہلے 15 سال کوئی ادائیگی نہیں کی جائیگی۔ اس سودے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بھی بات ہے جس سے مستقبل میں ہندوستان ان ٹرینوں کی برآمد بھی کر سکے گا۔
ریلوے وزیر نے کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے کے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے میں محض 500 کلومیٹر کا بلٹ ٹرین کوریڈور تیار کرنے کی بجائے اس پیسے کو ہزاروں کلومیٹر کے عام ٹریک بچھانے میں خرچ کیا جا سکتا تھا جس سے عام لاگو ں کو فائدہ ہوتا۔انهوں نے کہا کہ اس سے ملک کو فائدہ ہو گا۔ یہ مجموعی طور پر ایک کوشش ہے جسے آپ نہیں سمجھ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بلٹ ٹرین کوریڈور میں کسانوں کے لئے بھی الگ ٹرینیں چلائی جائیں گی جس سے ان کی فصل جلد ایک مقام سے دوسرے مقام پر بھیجی جا سکے گی۔
مسٹر گوئل نے بتایا کہ جاپان سے ملنے والا قرض اس منصوبے کے لئے خاص ہے اور اس کا استعمال کسی دوسرے منصوبے یا کام میں نہیں کیا جا سکتا۔